10 جنوری 2014 - 20:30
امام مھدي (عج) کا انکار کفر ہے

امام مھدي(عج)فرائد السمطین، کتاب البرہان فی علامات مہدی آخرالزمان(ع) ، باب۲، کتاب الاشاعۃ ص۱۱۲، کتاب الاذاعہ، ص۱۳۷، کتاب التصریح، ص۴۴۲، کتاب العرف الوردی فی اخبار المہدی، ج۲ص۸۳ اور بعض دیگر کتب میں فوائد الاخبار مولفہ ابی بکر اسکافی نیز ابوبکر بن خیثمہ کی کتاب اخبار المہدی، اور شرح سیر سھیلی کے حوالوں سے جابر بن عبداللہ نے یہ روایت نقل کی ہے کہ:پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا:    'مَن انکر خروج المہدي فقد کفر'    'جو شخص خروج مہدی(ع) کا منکر ہو وہ کافر ہے۔'    الفاظ کے معمولی اختلاف کے ساتھ یہ روایت بھی آپ(ص) ہی سے منقول ہے:    'مَن کذب بالمہدي فقد کفر'    'جو شخص مہدی(ع) کی تکذیب کرے وہ کافر ہے۔'    سفارینی کے مطابق ان روایات کی سند قابل اعتبار ہے،سفارینی کتاب 'لوامع' میں تحریر فرماتے ہیں:    'ظہور مہدی(ع) پر ایمان رکھنا واجب اور اہل سنت کے عقائد میں شامل ہے۔'    'ارشادالمستھدی' (۱) کے مولف اس کتاب کے صفحہ،۵۳ پر تحریر فرماتے ہیں: اے عقلمند! ظہور حضرت مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے بارے میں ہر طرح کے شک وشبہ سے اجتنا ب کر، اس لئے کہ حضرت (ع) کے ظہور کا عقیدہ خدا، رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کی رسالت پر عقیدہ کی تکمیل اور آپ کے ذریعہ بیان کی گئی باتوں کی تصدیق کا باعث ہے، پیغمبر (ص) صادق و مصدّق ہیں ، اس بات میں بھی کوئی شک و شبہ نہیں ہونا چاہئے کہ مہدی(ع) موعود کا ابھی تک ظہور نہیں ہوا ہے اگر کسی شخص نے ایسا دعویٰ کیا بھی ہے تو وہ جھوٹا اور کذّاب ہے اس لئے کہ حضرت مہدی(ع) کے لئے روایات میں جو اوصاف و علائم بیان کئے گئے ہیں وہ ایسے شخص میں نہیں پائے جاتے، حضرت مہدی(ع) کا ظہور اور آپ(ع) کی شناخت کے ذرائع بالکل واضح اور عیاں ہیں آپ کا ظہور حضرت عیسیٰ(ع) کے نزول سے پہلے ہوگا، حضرت عیسی(ع) کے ساتھ آپ کی موجودگی روایات صحیحہ کی رو سے قطعی اور بدیہی ہے۔    جو شخص تفصیل کا طالب ہو وہ اس موضوع پر لکھی جانے والی کتب کی طرف رجوع کرے اس کتاب (ارشاد المستہدی) میں ہمارا نصب العین حضرت عجل اللہ تعالیٰ فرجہ کے ظہور سے متعلق بطور اختصار روایات کے تواتر کا اثبات ہے۔    صفحہ/۵۲ پر فاضل مولف تحریر فرماتے ہیں:    'مذکورہ احادیث (احادیث ظہور) وروایات کو اکثر محدثین اور غیر محدثین نے اپنی کتابو ں میں نقل فرمایا ہے اور حضرت مہدی رضی اللہ عنہ (ارشاد المستھدی کے الفاظ بعینہ نقل کئے گئے ہیں) کے ظہور کاعقیدہ صحابہ کے درمیان مشہور ومعروف تھا اور صحابہ کا یہ عقیدہ وایمان پیغمبر ص سے ماخوذ ہے اسی طرح تابعین سے منقول آثار وروایات مرسلہ سے بھی یہی نتیجہ اخذ ہوتا ہے اس لئے کہ اس قسم کے مسائل میں تابعین اپنے نظریئے یا اپنی رائے سے کوئی فیصلہ نہیں کرتے تھے۔'اس مقالہ سے با آسانی یہ نتیجہ حاصل ہوتا ہے کہ حضرت مہدی موعود منتظر ارواح العالمین لہ الفداء کے ظہور کا مسئلہ تمام مسلمانوں کے نزدیک اجماعی اور متفق علیہ ہے نیز اس موضوع سے متعلق اہل سنت نے اپنے ذریعوں سے جو روایات نقل کی ہیں وہ بھی متواتر اور مسلم الثبوت ہیں، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر ایمان لانے، آپ(ص)  کی نبوت کی تصدیق کرنے اور آپ (ص) کے ذریعہ بیان کی گئی ۔۔۔۔۔۔غیبی اخبار کا جزء ہے جن میں کسی شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے، بلکہ آن حضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نبوت پر ایمان کا لازمہ یہ ہے کہ حضرت مہدی علیہ السلام کے ظہور پر بھی ایمان لایا جائے اور ان دونوں کو ایک دوسرے سے جدا کرنا جائز نہیں ہے۔   اس مقالہ میں سندکے طور پر صرف اہل سنت کے اقوال اور کتب کو بنیاد قرار دیا گیا ہے، اگر کوئی شخص، شیعوں کی معتبر کتب اور اہل بیت(ع) عصمت و طہارت سے معتبر ترین اسناد کے ساتھ منقول روایات اور گزشتہ ایک ہزار سال سے زائد عرصہ میں اس موضوع پر لکھی جانے والی تعداد کتابوں کو ملاحظہ کرے تو اس کی معلومات جامع اور کامل ہو سکتی ہیں۔   اس قسم کی روایات و احادیث شیعوں کی ان کتب میں بھی پائی جاتی ہیں جن کی تالیف و ترتیب امیرالمومنین (ع) کے عہد میں ہوئی، اسی طرح ائمہ معصومین علیہم السلام کے دور میں حضرت مہدی (ع) بلکہ آپ کے پدر بزرگوار امام حسن عسکری (ع) کی ولادت با سعادت سے قبل جو کتب اور اصول مرتب ہوئے ان میں بھی ایسی روایات موجود ہیں جو بذات خود ایک معجزہ اور خبر غیبی کا درجہ رکھتی ہیں۔    ہم دست بدعا ہیں کہ خداوند عالم جملہ مسلمانان عالم کی آنکھوں کو حضرت (ع) کے جمال بے مثال کی زیارت سے منور فرمائے انتظار کے لمحے تمام ہوں، اور اس مصلح حقیقی کے ظہور سے انسانی زندگی میں پائے جانے والے اضطراب کا خاتمہ ہو ۔

.....

/169